Guide To Over Coming Secret Habits

 

تنہائی کے جال: منفی عادات کو 'مائنس' کرنے کا سفر


​تہائی میں آپ ہی آپ کو جانتے ہیں یا پھر آپ کی روح آپ کو جانتی ہے۔ تنہائی کی بات کوئی نہیں کرتا سوائے اسلام کے، یہ ایک ایسا بنیادی سبب (root cause) ہے انسان سے حیوانیت کا جس میں شیطان کی سب سے زیادہ مدد حاصل ہوتی ہے۔

​اگر انسان شیطان کے سامنے بے پردہ ہے، یعنی وہ اللہ کے ذکر سے غافل ہے، تو وہ شیطان کے سامنے بالکل بے پردہ ہے۔ پھر وہ (شیطان) جیسے چاہے انسان پر حاوی ہو جائے۔

​تنہائی میں انسان سے ایک دوسرا شخص پیدا ہوتا ہے جو آپ سے گناہ کروا لیتا ہے، اس کے بعد آپ کو لگتا ہے کہ کیا یہ میں ہی تھا؟ یا کوئی اور تھا جس نے یہ حرکت کی؟

​لیکن آہستہ آہستہ وہ آپ کو یقین دلائے گا کہ یہ آپ ہی ہیں، اور اگر آپ مان گئے تو قریب ہے کہ انسان کسی بھی حد تک چلا جائے اور ایک عام انسان سے جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) بن جائے۔


تنہائی سے ملاقات: 


تنہائی سے ملاقات کریں، کیونکہ اس تنہائی میں آپ کا اپنا ایک "ہالہ" (Aura) موجود ہے۔ اس سے مل کر دیکھیں، کیا وہ آپ کو ناگوار گزرا یا اسے دیکھ کر خوشی ہوئی؟ تنہائی کبھی جھوٹ نہیں بولتی، اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو تنہائی کی اہمیت سمجھا دیتا ہے، کیونکہ کردار وہیں بدلتے ہیں۔


میں تب تک کچھ لکھ نہیں سکتی جب تک دنیا کے بے ہنگم شور سے دور نہ ہو جاؤں اور تنہائی میں خود کو تنہا محسوس نہ کروں۔ آج کے دور میں تنہائی کا ساتھی موبائل بن چکا ہے۔ میں اسے کسی صورت برا نہیں کہوں گی، کیونکہ موبائل نے میرا کیا بگاڑنا تھا؟ بگڑتا تو انسان خود ہے۔ موبائل کو قصوروار ٹھہرانا دراصل اپنی مجرمانہ عادتوں سے فرار کا ایک بہانہ ہے۔


منفی عادات کا خاتمہ:


جب بات تنہائی اور منفی سوچ کو ختم کرنے کی آتی ہے، تو یاد رکھیں کہ یہ ایک دن کا کام نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بری عادتوں کو اچھی عادتوں سے بدلنے (Replace) کا مشورہ میرے کبھی کام نہیں آیا۔ میں کبھی ری پلیس نہیں کر پائی، بلکہ مجھے ہمیشہ اسے جڑ سے چھوڑنا ہی پڑا، یعنی اسے زندگی سے مائنس (Minus) کرنا پڑا۔ کیونکہ جب تنہائی میں گناہ کا "trigger" آتا ہے، تو وہ آپ پر حاوی ہو کر رہتا ہے۔ اس وقت کچھ بدلتا نہیں، وہ اتنا زوردار وار ہوتا ہے کہ انسان بچ نہیں سکتا۔

اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہی سب سے بڑا فائدہ ہے، کیونکہ جب تک انسان اپنی برائی یا خامی کو تسلیم نہیں کرتا، وہ اسے جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش نہیں کرتا۔

تنہائی کے جال: وہ عادات جو ہمیں قید کرتی ہیں

تنہائی میں انسان جن منفی کاموں کا شکار ہوتا ہے، ان میں تعلقات (Relationships)، فحش بینی (Filth)، لذتِ نفس (Self-pleasure) اور احساسِ کمتری (Self-pity) شامل ہیں۔ یہ وہ ناکامیاں ہیں جن کا شکار اکثر انسان ہو جاتا ہے۔ لیکن فکر نہ کریں، اللہ پکارنے والے کی پکار ضرور سنتا ہے۔


 ناجائز تعلقات: 


اگر آپ کسی ایسے تعلق میں ہیں، تو سمجھ لیں کہ آپ کے وقت کا زیاں شروع ہو چکا ہے۔ یہاں انسان کے پاس سوچنے سمجھنے کا وقت نہیں رہتا۔ وہ اپنی شخصیت (Self-development) تو کیا، خود کو بھی بھول جاتا ہے۔ یہ تعلق اللہ کی دی ہوئی تمام صلاحیتوں کو آپ کے اندر ایک کونے میں دبا دیتا ہے، انہیں کبھی ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ آپ کے پاس اچھا اخلاق، ذہانت یا تخلیقی دماغ ہو سکتا ہے، لیکن اس جال میں پھنس کر آپ اسے دیکھ نہیں پائیں گے۔


 فحش بینی (Watching Filth)


اس پر بہت بات ہو چکی ہے، لیکن حل کہیں نظر نہیں آتا۔ مایوس نہ ہوں، اللہ بے بس کی پکار رد نہیں کرتا۔ یہ وہ ٹرگر ہے جو ری پلیس نہیں ہوتا، بلکہ صرف گلٹ (Guilt) میں ڈالتا ہے۔ اس کا حل کوئی جادو نہیں، بلکہ اپنی کمزوری کو تسلیم کر کے اس سے جان چھڑانے کا پکا ارادہ ہے۔

  

لذتِ نفس کا نشہ:


یہ عادت کردار کا حصہ بن جاتی ہے اور لوگ نادانی میں اسے ڈیفینڈ بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک مجرمانہ فرار ہے، جس سے بچنا ممکن نہیں دنیا اس گناہ کو کتنا ہی عام کیوں نہ کر دے، اللہ ہمیں معاف کرے کہ انسانیت کہاں کھڑی ہے

> حدیث کا مفہوم ہے: اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے سوائے ان کے جو انسان فخر سے بیان کرتا ہے، یا جنہیں اللہ نے چھپا دیا تھا مگر انسان نے خود پردہ فاش کر دیا۔

 

خود ترسی (Self-Pity) 


ان سب گناہوں کے بعد انسان اپنے آپ سے ملنا نہیں چاہتا، کیونکہ روح ہمیشہ سچ دیکھتی ہے۔ گناہ انسان کو مجرم بنا دیتے ہیں اور وہ خود ترسی کا شکار ہو کر فیصلے کرنے کی قوت کھو دیتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں تنہائی میں مت بیٹھو، میں کہتی ہوں جب تک تنہائی میں خود کا سامنا نہیں کرو گے، گناہ سے نجات کیسے پاؤ گے؟


اس کا حل ترغیب (Motivation) نہیں بلکہ تربیت ہے۔ موٹیویشن ایک نشے کی طرح ہے، اثر ختم ہوا تو وہی پرانا انسان سامنے آ جاتا ہے۔ یہ سب اللہ کی توفیق سے ممکن ہے، مگر انسان کو نیت اور ارادہ کرنا پڑتا ہے۔ اللہ کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔


اپنی تربیت آپ کو خود ہی کرنی پڑے گی، اس معاملے میں کوئی آپ کی مدد نہیں کر سکتا کیونکہ آپ کے سوا آپ کا حال کوئی نہیں جانتا۔ یاد رکھیں، گناہ کا "ٹرگر" جب آنا ہے تو آئے گا، اس وقت آپ کچھ نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ اپنے مالک سے مدد طلب کریں۔ گناہ ہوگا، اور شاید بار بار ہوگا، لیکن آپ نے ہر بار اٹھنا ہے اور دعا کرنی ہے۔ اپنے رب کے سامنے رو لیں، اپنی بے بسی کا اظہار کریں اور یہ تسلیم کریں کہ اس کی غیبی مدد کے بغیر آپ کچھ نہیں کر سکتے۔


اب سوال یہ ہے کہ تربیت کیسے کی جائے؟ اپنی نیت میں سچائی لائیں اور یہ عہد کریں کہ اب سے سب "مائنس" کر دیا، اب دوبارہ اس گڑھے میں نہیں گرنا۔ دل کا یہ پکا ارادہ اور سب کچھ مائنس کرنے کا تصور ہی آپ کی تبدیلی کا باعث بنے گا، ان شاء اللہ ۔ جب بھی تنہائی کا سامنا ہو اور موبائل ہاتھ سے نہ چھوٹے، تو اس پر کوئی پوڈ کاسٹ لگا لیں جو آپ کے پسندیدہ اور تعمیری موضوع پر ہو۔ کوشش کریں کہ ایسا کلام سنیں جو آپ کو اپنے خالق سے جوڑ دے۔ جو اپنی نہیں بلکہ اپنے رب کی بات کرے، اس کی محبت، اس کی معرفت اور اس کی شان سے آپ کو روشناس کرائے۔ یہ کلام آپ کے دل کے زنگ کو آہستہ آہستہ ختم کر دے گا۔ جہاں منفی سوچ نے جگہ بنا لی تھی، وہاں رب کی محبت کی ہلکی سی روشنی کو آنے دیں۔ فقہ، شریعت اور مسالک کی بحثیں اس وقت ایک عام انسان کے لیے بوجھ بن جاتی ہیں، اس لیے فی الحال ان معاملات سے دور رہ کر صرف اپنے مالک کی بات سنیں۔ وہ رب خود آپ کو اپنے دین کی 

روشنی سے منور کر دے گا۔


جہاں رب کا ذکر ہوگا وہاں شیطان کمزور ہو جائے گا۔ یاد رکھیں وہ رکے گا نہیں، لیکن کمزور ضرور ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ اس دوران اس کا وار آپ کے لیے روکنا مشکل ہو جائے اور آپ سے پھر کوئی لغزش ہو جائے، لیکن آپ نے رکنا نہیں اور ہمت نہیں ہارنی۔ بس اپنے ارادے میں سچے اور مخلص رہیں۔ راستہ وہ مالک خود دکھا دے گا۔ انسان کی کیا اوقات کہ وہ خود کسی اندھیرے سے باہر آ سکے؟ آپ بس مدد مانگتے جائیں، آپ کو اندھیروں سے نکال لیا جائے گا۔


آپ نے اپنے رب کی بات سننا نہیں چھوڑنا، اسی سے آپ تربیت کے میدان میں آ جائیں گے اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ آپ کی سیکھنے کا عمل جاری ہے۔ اگر نماز میں کمی یا کوتاہی ہوتی ہے تو اس بحث میں نہ پڑیں، بلکہ اپنی نیت اور سچائی پر قائم رہیں، ان شاء اللہ یہی چیز آپ کو اس دلدل سے نکال لے گی۔ معلوم نہیں کون سی آیت یا کون سی حدیث آپ کی روح میں اتر جائے، یا کہاں زبان سے نکلی ہوئی پکار آپ کی بے بسی کو قبولیت دلا دے؛ اسے چھوٹی بات نہ سمجھیں، یہ پکار خود بخود سب برائیاں مائنس کر دے گی۔


یہ سب آہستہ آہستہ اور بتدریج ہوگا، اس دوران معلوم نہیں آپ کتنے گناہوں میں الجھیں گے اور کتنے خوفناک مراحل سے گزریں گے، بس یقین رکھیں اور اس عمل کو ہونے دیں۔ اپنے ساتھ یہ تبدیلی ہونے دیں، خود کو اپنے مالک کے حوالے کر دیں اور اس پر بھروسہ رکھیں۔ وہ قریب ہے اور اس کی مدد بھی قریب ہے۔ خاموش رہا کریں اور جہاں بھی وقت ملے، اپنے رب کی بات سنا کریں۔ صرف اس ایک چیز کو اپنی زندگی میں جگہ دیں، باقی کچھ بدلنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ انسان خود کچھ نہیں بدل سکتا۔ آپ کچھ چاہ بھی نہیں سکتے جب تک وہ نہ چاہے۔ یہ ایک مثبت قدم آہستہ آہستہ آپ کی زندگی سے سب کچھ مائنس کر دے گا۔



میرے لیے یہ دعا بہت پُر اثر ثابت ہوئی:


"یا اللہ! میں گنہگار ہوں، میں تیری نافرمانی کے ساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہتی۔ میں آخری سانس تک تیری نافرمان نہیں رہنا چاہتی، یا رب مدد فرما۔"

 


یاد رکھیں، جو مدد آپ نے مانگ لی، وہ نوٹ ہو گئی۔ اب دعا آپ کے ارد گرد ایسے اسباب پیدا کرے گی جو آپ کے لیے بہتر ہیں

جس دن آپ نے وہ پاکیزہ کردار پا لیا، وہی آپ کا اصل "ہالہ" (Aura) ہوگا، اور پھر آپ کی شخصیت میں کوئی دوغلا پن باقی نہیں رہے گا۔



 

Comments

Popular posts from this blog

Jaffrey epstein Or ISLAM

GUIDE TO OVERCOMING SECRET HABITS ; PART 3