قربِ الٰہی کا راز۔"عبادت گزاری یا ترکِ گناہ

 اللہ سے قربت کے دو راستے

اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے قریب ہونے کے دو راستے ہیں جنہیں میں جانتی ہوں اور جو زندگی کے سفر میں مجھ پر واضح ہوئے ہیں۔ باقی جس طرح اللہ چاہے اپنے بندے کو اپنا قرب عطا کرے، یہ اس کی شان ہے اور وہی بہتر جانتا ہے۔

میرا یہ لکھنے کا مقصد ان لوگوں کی رہنمائی ہے جو اللہ سے قریب ہونا تو چاہتے ہیں لیکن اپنے نفس کی وجہ سے عملی زندگی میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ جو انسان عمل (practices) نہیں کرتا وہ ان کے نتائج سے واقف نہیں ہوتا، اور جو عمل کر رہا ہے وہ نتائج کی پرواہ نہیں کرتا (کیونکہ اس کا مقصد رضا الٰہی ہوتا ہے)۔ لیکن جو صرف نتائج کی خاطر عمل کرتا ہے، وہ دین کو محض چند رسومات کی حد تک ہی سمجھ پاتا ہے۔

میرے نزدیک وہ دو راستے یہ ہیں:

 * عبادات کا راستہ

 * گناہ چھوڑنے کا راستہ

ان دونوں میں فرق کیا ہے؟

عام طور پر دیکھا جائے تو فرق یہ ہے کہ جو انسان عبادات کا راستہ اختیار کرتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ساتھ ہی گناہ بھی چھوڑ دے۔ لیکن جو انسان اپنے سفر کی شروعات ہی گناہ چھوڑنے سے کرتا ہے، تو پوری امید ہے کہ اسے (اللہ کی طرف سے) عبادت کے راستے تک بھی پہنچا دیا جائے گا۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ یہ سب ہماری کوشش کی حد تک ہے، باقی سب اللہ کے اذن اور اس کی توفیق سے ہی ممکن ہے۔

راستوں کی حقیقت

اگر میں اپنی بات کروں تو میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ مجھے عبادت کے راستے سے لایا گیا اور پھر میری نظر کو اس طرف موڑا گیا کہ میں اپنے اندر جھانک کر دیکھوں کہ میں کن خواہشات کے آگے سجدہ کر رہی ہوں۔ مجھے دکھایا گیا کہ کن خواہشات کی وجہ سے میں دین سے بغاوت کر رہی ہوں۔ میں نے غور سے دیکھا، لیکن ان خواہشات کو چھوڑنے کی ہمت مجھ میں کہاں تھی؟ وہ بھی اللہ کی توفیق سے ہی ہوا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ گناہ بھی (اللہ کی طرف سے) چھڑوائے ہی جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر عبادت گزار شخص اپنے نفس کی چالوں کو سمجھتا ہو یا اپنی خامیوں پر نظر رکھتا ہو۔ بے شک وہ نماز پڑھتا ہوگا، روزہ رکھتا ہوگا اور زکوٰۃ بھی دیتا ہوگا۔

دوسرا راستہ: تزکیہ اور تربیت

اب بات دوسرے راستے کی؛ جہاں سے اگر کوئی آنا چاہے تو اسے سب سے پہلے گناہوں کو ترک کرنا ہوگا تاکہ اس کی توانائیاں (energies) اور اس کا نفس قابو میں آ سکیں۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ اپنے تزکیہ اور نفس کی تربیت پر لگائے، لیکن شرط یہ ہے کہ نیت صرف اللہ کی رضا ہو اور وہ دین میں اخلاص کے ساتھ آنا چاہتا ہو۔

 * پہلا راستہ (عبادت): انسان کو پہلے عاجز کرتا ہے، عاجزی سکھاتا ہے اور پھر ایک مضبوط کردار بناتا ہے۔

 * دوسرا راستہ (ترکِ گناہ): پہلے ایک مضبوط کردار بناتا ہے اور پھر اسے عاجزی کی طرف لے کر آتا ہے۔

پھر اگر اللہ کا اذن اور توفیق ہوئی تو وہی عاجزی اسے اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دے گی اور اسے اس بات کی ندامت ہوگی کہ اس نے یہ کام پہلے کیوں نہیں کیا۔ وہ جان پائے گا کہ اس نے کس "کریم رب" کی نافرمانی کی اور کس قدر دین کی برکات سے محروم رہا۔

Comments

Popular posts from this blog

Jaffrey epstein Or ISLAM

GUIDE TO OVERCOMING SECRET HABITS ; PART 3

Guide To Over Coming Secret Habits