قربِ الہیٰ: خود سے خود کی جنگ
اللہ کا شکر ہے، بہت شکر ہے۔ اس تمام جہانوں کے رب کا شکر ہے؛ وہ جہان جو اس نے ہمیں بتا دیے اور وہ جو ہم سے پوشیدہ ہیں۔
اللہ مجھے الفاظ عطا کرے اور سمجھ عطا کرے۔ میرے لفظوں میں وہ اثر پیدا کرے جو کسی کے لیے راستہ بن جائے
دینی اعمال کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنے والے یہ جان لیں کہ یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے بغیر رہنمائی ممکن نہیں۔ اس راستے کی اہمیت اگر اللہ کسی کے دل میں ڈال دے، تو یہ اتنا قیمتی احساس بن جاتا ہے کہ انسان اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہو جائے، مگر یہ احساس کسی قیمت پر دوسروں کو نہ دے۔ یہ کوئی مادی (material) چیز نہیں لیکن یہ قیمتی ضرور ہے۔
دینی اعمال کا یہ راستہ آپ پر تب تک حقائق ظاہر نہیں کرے گا، جب تک آپ خود دیکھنے اور پرکھنے والی نظر پیدا نہ کر لیں۔ ورنہ نماز اور روزہ تو سب رکھتے ہیں، مگر ان کا اصل essence حاصل نہیں ہوتا۔ پھر ایک فرض محض بوجھ سمجھ کر ادا ہوتا رہتا ہے، اس امید پر کہ شاید نجات ہو جائے، مگر اس نیت میں اللہ کی یاد یا اسے حاصل کرنے کی طلب شامل نہیں ہوتی۔ افسوس کہ اس ذکر میں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا، ایسے اعمال کا ہم کیا کریں گے جو اس کریم رب کے سامنے پیش کرنے کے لائق ہی نہ ہوں؟
ہم سب اس دنیا میں مسافر ہیں اور یہ ہم سب کی مشترکہ کہانی ہے۔ ہم سب یا تو اس راستے سے گزر چکے ہیں، گزر رہے ہیں یا آنے والے ہیں۔ بس گھبرانا نہیں ہے، اسلام مایوسی کا نہیں بلکہ ’ثابت قدمی‘ کا راستہ ہے۔ اس سفر میں سب سے پہلے اپنی نماز کو بہتر کریں۔ نماز کی روح کو سمجھیں کہ وہ آپ سے کیا چاہتی ہے۔ نماز کا ’نبوی‘ طریقہ سیکھیں اور اسے روایتی سانچوں سے نکال کر refine کریں۔ ہر لفظ کے معنی اور مفہوم پر غور کریں؛ کتنے دکھ کی بات ہے کہ برسوں سے اللہ سے ملاقات میں مصروف ہیں مگر یہی نہیں جانتے کہ کہہ کیا رہے ہیں۔
سیکھنے کا وقت کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اگر آج ہمیں بچوں کی طرح نوٹ بک اور پنسل بھی اٹھانی پڑے تو گھبرائیں مت؛ آپ کا لکھا ہوا ہر لفظ اور اس پر خرچ ہونے والی سیاہی آپ کے لیے اجرِ عظیم کا باعث بنے گی۔ میں آج بھی اپنی پسند کی دعائیں لکھ کر اپنی الماری پر لگا لیتی ہوں، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے یہ توفیق دی۔ آتے جاتے ان پر نظر پڑتی ہے تو وہ دل و دماغ میں نقش ہو جاتی ہیں۔
اپنی نماز کو 'upgrade' کریں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ طریقہ بدل گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اب آپ نے اس میں نئے اذکار اور نئی دعائیں شامل کر کے اسے خوبصورت بنانا ہے۔ جب آپ نماز پر محنت کریں گے، تبھی نماز آپ کی شخصیت بدلنا شروع کرے گی مگر یاد رکھیں نماز پہلے آپ کو بے چین کرے گی، خوف میں ڈالے گی اور آپ کو آپ کا اصل چہرہ دکھائے گی۔ ہر بار جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں گے، وہ آپ کا احتساب کرے گی اور آپ کو چین نہیں لینے دے گی جب تک آپ اپنی بری عادتوں کا سامنا نہ کر لیں۔
انسان فطرتی طور پر دوسروں کے عیب دیکھنے کا عادی ہوتا ہے، مگر نماز اسے بتاتی ہے کہ اصلی سفر اب شروع ہوا ہے۔ اب خود سے سامنا کرنا ہوگا، خود سے لڑنا ہوگا اور جیتنے کے لیے ’خود‘ کو ہرانا ہوگا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دوستی یوں ہی تو نہیں ہو جایا کرتی، آسان تو بہت ہے مگر مشکل کے لبادے میں چھپی ہوئی آسانی ہے۔ بس ایک نیت اور پکار، یعنی دعا کی ضرورت ہے، میرا کریم رب تو پیچھے نہیں ہٹتا۔ وہ تو ہم سے، اپنی بنائی ہوئی مخلوق سے مخاطب ہے:
يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ
(اے انسان! تجھے کس چیز نے اپنے ربِ کریم سے غافل کر رکھا ہے؟)
مجھے یہ آیت بہت پسند ہے، کیا شان ہے میرے اللہ کی، الحمدللہ! یہ آیت صرف دنیاوی غفلتوں کو نہیں بلکہ نفس کے جال پر بھی غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اب اگر دنیا کو دیکھوں تو وہ بھی اس آیت کا جواب ہے اور نفس کو دیکھوں تو وہ بھی جواب ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں دیکھنے والی نظر عطا کرے۔
یہی میرے ربِ کریم کی رہنمائی کا طریقہ ہے؛ مشکل میں ڈال ضرور دیتا ہے لیکن ساتھ بھی نہیں چھوڑتا۔ خاموش بھی ہو جاتا ہے، کبھی دعا کا جواب بھی نہیں آتا لیکن یوں بے بس بھی نہیں چھوڑتا۔ گرا بھی دیتا ہے لیکن حوصلہ بھی دیتا ہے اور نکلنے کا ذریعہ بھی بنا دیتا ہے۔
تو مختصر یہ کہ وہ کریم اللہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا، آپ کی دعا رد نہیں کرے گا۔ اب نیت کریں کہ آپ اس راستے کے جہادی ہیں، الحمدللہ۔ یہ بھی سمجھ لیں کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ ہم نے فرشتہ بن جانا ہے، ایسا ہرگز نہیں ہونا۔ ہونا تو وہی ہے جو اس نے چاہ رکھا ہے ہمارے لیے۔ راستہ کون سا ہم نے چنا ہوتا ہے؟ کون سا اپنے دم پر ہم نے کر لینا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ نیت کرو گے تو اس راستے پر لائے جاؤ گے، کوشش کرو گے تو آگے بڑھائے جاؤ گے۔
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّٰهِ
Comments
Post a Comment