Posts

Jaffrey epstein Or ISLAM

Image
 The Epstein Reality Check: Why Surah Kahf is Our Only Shield Against the Modern System   ​"English translation is available below." مسلمان اب آنکھیں کھولیں یا نہ کھولیں، اب دل کھول کر دیکھنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ اب صرف بات آنکھ کھول کر دیکھنے سے بہت دور چلی گئی ہے۔ اب مسلمان کس چیز کا انتظار کر رہا ہے؟ اس کی باری آئے یا اس کے اپنوں کی؟ یہ دنیا ہے، حشر کا میدان نہیں ہے جہاں ہم اپنوں کی اذیت بھی برداشت کر لیں گے یا اپنی جان کے مقابلے میں ان کی جان پیش کریں گے۔ مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوئی اس تماشے پر، نہ کبھی یہ معاملہ میری توجہ کا مرکز بنا، کیونکہ پہلے ہی معلوم تھا کہ اس میں نیا کچھ بھی نہیں تھا اور جو نام نکلے ہیں توقع  ہی تھی۔ شاید اس لیے کیونکہ میری اس معاملے میں پہلے سے گہری نظر تھی—اور ہوتی بھی کیوں نہیں؟ مسلمان ہوں، کیا آنکھیں بند کر کے بیٹھی رہوں؟ مسلمان جب آنکھیں نہیں دل کھول کر دیکھنے لگتا ہے تو صلاح الدین ایوبی بن جاتا ہے۔ افسوس یہ کہ مسلمان اپنی قدر نہیں جانتا۔ جب وہ بچہ ہو تب بھی معاذ اور معوذ ہے، جب وہ جوان ہے تو وہ علی بن ابی طالبؑ کی طرح بہادر ہے اور جب وہ بز...

GUIDE TO OVERCOMING SECRET HABITS ; PART 3

Image
Finding My Divine 'Eidi'  ​"English translation is available below." اب آپ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ تنہائی نے آپ کو کیا دیا؟ کیا آپ اس قابل ہیں کہ اپنی سچائی کو جانچ سکیں؟ کیا آپ کے اندر کا سچ اتنا جاگ گیا ہے کہ وہ جھوٹ کو یا آپ کے اندر کے اندھیرے کو پہچان سکے؟ تنہائی ناکامی سے خودشناسی کا سفر ہے۔ اللہ کی بات سننا اور دعا کے ذریعے "ٹرگر" سے بچنے کی مدد طلب کرنا، اس پر ہم بات کر رہے تھے۔  الحمدللہ! اگر نیت سچی ہو تو اللہ آپ کو اپنی قربت تک لانے کے ذریعے ضرور دکھاتا ہے۔ جب انسان اپنی طرف دیکھ لیتا ہے اور اپنی برائی کو قبول کرتا ہے، تب وہ مان لیتا ہے کہ اس کے پاس اب اللہ کے سوا کچھ نہیں بچا۔ بے بسی ہی وہ راستہ ہے جو اصل راستہ دکھاتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی باتیں سنیں؛ جو اللہ کی بات کرتا ہے اسے سنیں۔ جہاں آپ کو اپنی بے بسی نظر آئے اور اللہ کی بات نے آپ کے دل کو نرم کر دیا ہو، وہیں روئیں، وہیں بے بس ہو جائیں اور اللہ سے بات کریں کہ "یا اللہ! مجھے بھی ویسا ہی کر دے جیسا تو چاہتا ہے"  سرِ تسلیم خم کریں اور اللہ کی بات مان جائیں؛ یہاں اپنی سوچ...

Guide To Over Coming Secret Habits

  تنہائی کے جال: منفی عادات کو 'مائنس' کرنے کا سفر ​تہائی میں آپ ہی آپ کو جانتے ہیں یا پھر آپ کی روح آپ کو جانتی ہے۔ تنہائی کی بات کوئی نہیں کرتا سوائے اسلام کے، یہ ایک ایسا بنیادی سبب (root cause) ہے انسان سے حیوانیت کا جس میں شیطان کی سب سے زیادہ مدد حاصل ہوتی ہے۔ ​اگر انسان شیطان کے سامنے بے پردہ ہے، یعنی وہ اللہ کے ذکر سے غافل ہے، تو وہ شیطان کے سامنے بالکل بے پردہ ہے۔ پھر وہ (شیطان) جیسے چاہے انسان پر حاوی ہو جائے۔ ​تنہائی میں انسان سے ایک دوسرا شخص پیدا ہوتا ہے جو آپ سے گناہ کروا لیتا ہے، اس کے بعد آپ کو لگتا ہے کہ کیا یہ میں ہی تھا؟ یا کوئی اور تھا جس نے یہ حرکت کی؟ ​لیکن آہستہ آہستہ وہ آپ کو یقین دلائے گا کہ یہ آپ ہی ہیں، اور اگر آپ مان گئے تو قریب ہے کہ انسان کسی بھی حد تک چلا جائے اور ایک عام انسان سے جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) بن جائے۔ تنہائی سے ملاقات:  تنہائی سے ملاقات کریں، کیونکہ اس تنہائی میں آپ کا اپنا ایک "ہالہ" (Aura) موجود ہے۔ اس سے مل کر دیکھیں، کیا وہ آپ کو ناگوار گزرا یا اسے دیکھ کر خوشی ہوئی؟ تنہائی کبھی جھوٹ نہیں بولتی، اسی لیے اللہ تعالی...

Qurb-e-Ilahi: Tazkia-e-Nafs

Image
Self Development (+ / -) ​سائیکالوجی سے میرا کوئی خاص تعلق نہیں (سائیکالوجی میں نے پڑھی نہیں ہے)، میرا میری حقیقت سے تعلق ہے؛ یعنی انسانوں سے اور ان کی سائیکالوجی سے تعلق ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر انسان سائیکالوجی "جیتا" ہے۔ سائیکالوجی کی مثال ایک زندہ انسان کی ہے— جہاں انسان زندہ ہے وہاں سائیکالوجی ہے، جہاں وہ مر گیا وہاں سائیکالوجی ختم۔ لیکن اگر آپ نے وہ سائیکالوجی "جی" لی جو ایک پُر اثر کردار بناتی ہے، تو آپ کی سائیکالوجی مرنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ ​سب سے پہلے ہمیں اپنی سائیکالوجی کے لیے منفی (-) کی ضرورت ہے، کیونکہ مثبت (+) تب ہی ممکن ہے جب جگہ خالی ہوگی۔ اب ہم نے منفی کرنا کیا ہے؟ وہ خیالات، وہ عادتیں اور وہ لوگ جو ہمیں آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم نے بدل جانا ہے، بلکہ ہم نے اپنے آپ میں گرو (Grow) کرنا ہے۔ آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے اس میں نیا کیا ہے، یہ سب وہی کتابی باتیں ہیں جو سب کرتے ہیں، لیکن میں نے اپنی زندگی میں یہ جی کے دیکھا ہے جو میں آپ کو بتا رہی ہوں۔ یہ کوئی فسانہ نہیں، یہ سب ممکنات میں سے ہے ​​لیکن جہاں جس انسان کے پاس اللہ نہیں،...

​قربِ الہیٰ: خود سے خود کی جنگ

 ​اللہ کا شکر ہے، بہت شکر ہے۔ اس تمام جہانوں کے رب کا شکر ہے؛ وہ جہان جو اس نے ہمیں بتا دیے اور وہ جو ہم سے پوشیدہ ہیں۔ ​اللہ مجھے الفاظ عطا کرے اور سمجھ عطا کرے۔ میرے لفظوں میں وہ اثر پیدا کرے جو کسی کے لیے راستہ بن جائے  دینی اعمال کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنے والے یہ جان لیں کہ یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے بغیر رہنمائی ممکن نہیں۔ اس راستے کی اہمیت اگر اللہ کسی کے دل میں ڈال دے، تو یہ اتنا قیمتی احساس بن جاتا ہے کہ انسان اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہو جائے، مگر یہ احساس کسی قیمت پر دوسروں کو نہ دے۔ یہ کوئی مادی (material) چیز نہیں لیکن یہ قیمتی ضرور ہے۔ دینی اعمال کا یہ راستہ آپ پر تب تک حقائق ظاہر نہیں کرے گا، جب تک آپ خود دیکھنے اور پرکھنے والی نظر پیدا نہ کر لیں۔ ورنہ نماز اور روزہ تو سب رکھتے ہیں، مگر ان کا اصل essence حاصل نہیں ہوتا۔ پھر ایک فرض محض بوجھ سمجھ کر ادا ہوتا رہتا ہے، اس امید پر کہ شاید نجات ہو جائے، مگر اس نیت میں اللہ کی یاد یا اسے حاصل کرنے کی طلب شامل نہیں ہوتی۔ افسوس کہ اس ذکر میں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا، ایسے اعمال کا ہم کیا کریں گے جو اس کریم رب کے ...

قربِ الٰہی کا راز۔"عبادت گزاری یا ترکِ گناہ

 اللہ سے قربت کے دو راستے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے قریب ہونے کے دو راستے ہیں جنہیں میں جانتی ہوں اور جو زندگی کے سفر میں مجھ پر واضح ہوئے ہیں۔ باقی جس طرح اللہ چاہے اپنے بندے کو اپنا قرب عطا کرے، یہ اس کی شان ہے اور وہی بہتر جانتا ہے۔ میرا یہ لکھنے کا مقصد ان لوگوں کی رہنمائی ہے جو اللہ سے قریب ہونا تو چاہتے ہیں لیکن اپنے نفس کی وجہ سے عملی زندگی میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ جو انسان عمل (practices) نہیں کرتا وہ ان کے نتائج سے واقف نہیں ہوتا، اور جو عمل کر رہا ہے وہ نتائج کی پرواہ نہیں کرتا (کیونکہ اس کا مقصد رضا الٰہی ہوتا ہے)۔ لیکن جو صرف نتائج کی خاطر عمل کرتا ہے، وہ دین کو محض چند رسومات کی حد تک ہی سمجھ پاتا ہے۔ میرے نزدیک وہ دو راستے یہ ہیں:  * عبادات کا راستہ  * گناہ چھوڑنے کا راستہ ان دونوں میں فرق کیا ہے؟ عام طور پر دیکھا جائے تو فرق یہ ہے کہ جو انسان عبادات کا راستہ اختیار کرتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ساتھ ہی گناہ بھی چھوڑ دے۔ لیکن جو انسان اپنے سفر کی شروعات ہی گناہ چھوڑنے سے کرتا ہے، تو پوری امید ہے کہ اسے (اللہ کی طرف سے) عبادت کے راستے تک بھی پہنچا دیا جائے گا۔ ...